25 جون 2012 - 19:30

شام کے شورش زدہ شہر حمص ميں تشدد کا سلسلہ بدستور جاري ہے اور شامي فوج مسلح افراد کے خلاف مسلسل کاروائي کر رہي ہے-

ابنا: حمص شہر ويراني کا منظر پيش کر رہا ہے، سڑکوں پر سناٹا چھايا ہوا  اور گھر مکينوں سے  خالي ہيں- اس کے جڑواں شہر شائيا ميں زبردست تشدد کي خبريں موصول ہورہيں-مسلح افراد اور فوج کے درميان گلي کوچوں ميں لڑائي ہورہي ہے-فوٹيج سے پتہ چلتا ہے کہ صدر بشار اسد کي حکومت کے خلاف لڑنے والے مسلح گروہ کے ارکان عام لوگوں کے گھروں کي چھتوں پر کھڑے ہيں انہيں اسٹريٹ وار کے  ايک مورچے کے طور پر استعمال کر رہے ہيں-کہا جارہا ہے کہ مسلح باغيوں نے درجنوں عام شہريوں کو يرغمالي بنا رکھا ہے اور خود کش بمبار کے طور پر استعمال کر رہے ہيں-رپورٹ کے مطابق مسلح باغيوں نے کئي يرغماليوں کو بارود سے بھري گاڑيوں ميں بٹھا کر آرمي چيک پوسٹ کے قريب لے جا کر دھماکے سے اڑا ديا- دوسري جانب اقوام متحدہ کے سيکريٹري جنرل بان کي مون کي ترجمان نے کہا ہے کہ ايسي اطلاعات موصول ہورہي ہيں کہ شام ميں حکومت مخالف مسلح گروہ اسپتالوں اور عام شہروں پر حملے کر رہے ہيں-مارٹن نسيرکي  کا کہنا تھا کہ سيکريٹري جنرل بان کي مون نے شام سميت دنيا کے مختلف علاقوں ميں عام شہريوں کاقتل عام فوري طور پر بند کرنے کي اپيل کي ہے-......../169